aik thi salah
Episode # 11
ز ین جب گا ڑی سے ا تر ا تو سا منے حو ر ین ا ور ا نا بیہ کو د یکھا تھا ا سے حیر ت ہو ئی تھی آ ج کل ا نکا یہا ں آنا جا نا بڑ ھ ر ہا تھا جو آ ج نہیں تو کل مسلہ بننا تھا اس نے ان کی طر ف جا نے کی بجا ئے اند ر جا نا منا سب سمجھا تھا و یسے حو ر ین اس کی مو جو دگی میں کمفر ٹیبل نہیں تھی تو ا سے بھی ا چھا نہیں لگتا تھا ا وپر سے مسلط ہو نا وہ گھر میں د ا خل ہو ا تو ظہر کی آ ذانیں ہو رہی تھی وہ سید ھا لا ؤ نج کی طر ف بڑ ھا تھا جا نتا حو ر ین آ ئی تھی تو با با ا د ھر ہی ہو گے۔
”با با آ پ کی طبعیت تو ٹھیک ہے نہ“ وہ لا ؤ نج میں دا خل ہو ا تو عا بد صو فہ سے ٹیک لگا ئے آ نکھیں بند کیے بیٹھے تھے اسے لگا شاید ا ن کی طبیعت خر ا ب ہے۔
”ہا ں بیٹا میں بلکل ٹھیک ہو ں مجھے کیا ہو نا ہے ا یسے بلا و جہ نہ پر یشا ن ہو اکر و“ وہ اس کی آ و ا ز پر آ نکھیں کھو ل کر ٹھیک سے بیٹھتے ہو ئے بو لے تھے۔
”ا یسے کیسے پر یشا ن نہ ہو ں میں آ پ علا و ہ ہے ہی کو ن میر ا“ وہ ا ن کے سا منے پڑ ے صو فے پر بیٹھتا ہوا بو لا۔
”جا نتا ہو ں اس لیے چا ہتا ہو ں جلد ا ز جلد تمہا ر ی شا د ی کر دو ں تا کہ تمہا ر ا خیا ل کر نے و ا لی بھی کو ئی آ ئے“ وہ ہلکا سا مسکر ا تے ہو ئے بو لے تھے جب ان کی با ت پر ز ین کچھ نہیں بو لا تھا جا نتا تھا جو وہ چا ہتے
تھے وہ نہیں ہو نے و ا لا تھا۔
”با با میں نے حو ر ین ا ور ا نا بیہ کو نکلتے د یکھا تھا آ پ کو نہیں لگتا کے وہ یہا ں کچھ ز یا د ہ آ نے لگی ہیں اور آ پ کو یہ بھی پتہ ہو گا کہ وہ گھر و ا لو ں کو بنا بتا ئے آ تی ہیں اور جب انہیں پتہ چلا تو کیا تما شا ہو سکتا ہے“ وہ د ل کی با ت ز با ن پر لے آ یا تھا۔
”جا نتا ہو ں لیکن میں نے خو د بلا یا تھاآ ج ا نکو“ وہ دو با ر ہ ٹیک لگا تے ہو ئے بو لے تھے اس با ر آ نکھیں کھو لی ہی ر کھی تھی۔
”کیو ں با با آ پ تو جا نتے ہیں کہ وہ لو گ آ پ کو ا چھا نہیں سمجھتے“ اس کی نظر یں ا ن کے چہر ے پر جمی تھی جیسے ان کو جا ننے کی کو شش کر ر ہا تھا۔
”تمہیں تو معلو م ہی ہے حو ر ین کا جو پر پو ز ل آ یا ہے ا س د ن صد یقی صا حب نے تمہا ر ے سا منے با ت کی تھی اس کے لیے ہی بلا یا تھا“ وہ ا یک گہر ی سا نس لے کر بو لے تھے۔
”با با آ پ جو چا ہتے ہیں وہ نہیں ہو سکتا تو پھر آ پ یہ سب کیو ں کر ر ہے ہیں“ وہ اب بھی ا لجھن کا شکا ر تھا ا سے حو ر ین پسند ضر ور تھی پر ہمیشہ سے پتہ تھا وہ ا س کی منز ل نہیں ہو سکتی تھی تو ا س نے کبھی ا س با ر ے میں نہیں سو چا تھا تو با با کا یہ سب کر نا ا سے سمجھ نہیں آ ر ہا تھا۔
”کیو نکہ میں نہیں چا ہتا کہ سا جد ہ بیگم کی خو د غر ضی کے نظر ا یک اور معصو م ز ند گی قر با ن ہو“ وہ ٹیک لگا ئے بو لے تھے ”میں ا س با ر ا نہیں کا میا ب نہیں ہو نے د و ں گا کسی بھی حا ل میں“ ا نہیں نے سا تھ لگی کھڑ کی سے با ہر د یکھتے ہو ئے کہا تھا مو سم بد ل ر ہا تھا آ ج د ھو پ ا چھی خا صی تیز تھی۔
”تو آ پ یہ سب بد لہ لینے کے لیے کر ر ہے ہیں آ پکو لگتا ہے کہ آ پ حو ر ین کو ا ن کے خلا ف ا ستعما ل کریں گے“ وہ حیر ا ن ہو ا تھا ا س کا با پ ا یسا تو نہ تھا کہ ا پنی غر ض کے لیے کسی کا فا ئد ہ ا ٹھا تا۔
”نہیں نہیں تمہا ر ا با پ ا تنا کم ظر ف نہیں ہے کہ وہ کسی ا ور کو ا پنے لیے ا ستعما ل کر یں“ وہ اب کی ا س کی
طر ف د یکھ ر ہے تھے جو کہ الجھن کا شکا ر تھا۔
”تو پھر کیو ں“ ا لجھن ا ب بھی د ور نہیں ہو ئی تھی۔
”حو ر ین معصو م ہے پر بہا در ہے میں نہیں چا ہتا کہ وہ بے خبر ی میں ما ر ی جا ئے ا س د ن ا س لڑ کے کے با ر ے میں صد یقی صا حب نے جو کچھ بو لا تھا وہ تم بھی جا نتے ہو تو میں نے حو ر ین کو صر ف آ گا ہ کیا ہے تا کہ وہ ا پنی د ا دی کی محبت میں کو ئی فیصلہ کر نے سے پہلے ا یک با ر سو چے ضر ور“ وہ اب کی با ر ا سے ا یک ا یک با ت سمجھا ر ہے تھے۔
”با با وہ ا س کے ر شتے دا ر ہیں اور حو ر ین سا جد ہ کی پو تی ہیں وہ بھی سب سے لا ڈ لی وہ ا س کے لیے کو ئی غلط فیصلہ تھو ڑ ی نہ کر ے گی“ ز ین نے کبھی بھی سا جد ہ کو د ا دی یا کچھ ا ورنہیں کہا تھا وہ بھی ا ن سے ا تنی نفر ت کر تا تھا جتنا کہ عا بد ا نہو ں نے جو عا بد اور مد یحہ کے سا تھ کیا تھا ا سے سب کچھ پتا تھا وہ اور عا بد با پ بیٹا کم اور دو ستو ں کی طر ح ز یا دہ تھے جو ا یک د و سر ے سے ہر با ت شیئر کر تے تھے اور اب ا سے ان کی بلا و جہ کی فکر یں سمجھ نہیں آ ر ہی تھی۔
”جتنا میں ا نہیں جا نتا ہو ں تو جب بھی ان پر کوئی مصیبت آ ئی ا نہو ں نے ا پنے سب سے پیا ر ے ا نسا ن کو قر با ن کیا ہے ہمیشہ سے“ اب کی با ر ز ین کو ا ن کے چہر ے پر د کھ د یکھا ئی د ے ر ہا تھا۔
”با با آ پ جا نتے ہیں آ پ بے کا ر میں کو شش کر ر ہے ہیں حو ر ین کبھی بھی ا پنی د ا د ی کے خلا ف نہیں جا ئے گی جو بھی ا س کی ر گو ں میں بھی وہ ہی خو ن د و ڑتا ہے“ وہ ان کو کسی جھو ٹی خو ش فہمی میں نہیں ر ہنے د ینا چا ہتا تھاوہ جا نتا تھا جب بھی بچپن میں ا سنے حو ر ین کے سا تھ کھیلنے کی کو شش کی تھی تو کہتی تھی ا س کی د ا دی کہتی ہے کہ وہ لو گ بر ے ہیں ان کے سا تھ نہیں کھیلنا۔
”جا نتا ہو ں لیکن تمہیں پتہ ہے میں نے اس کی آ نکھو ں میں د یکھا ہے وہ ا ن جیسی بلکل نہیں ہے وہ ا لگ ہے اس با ر با ز ی ضر ور پلٹے گی“ وہ پر عزم لہجے میں بو لے تھے جب کہ ان کو ا تنا پر ا عتما د د یکھ کر ز ین کو سمجھ
ہی نہیں آ ئی تھی کیا کہتا وہ چپ ہو گیا۔
......................
حو ر ین عا بد ا نکل کے گھر سے آ نے کے بعد کا فی غصہ میں تھی ا نا بیہ نے بو لا بھی تھا کہ حو ر ین چھو ڑے پر ے ہم د و با ر ہ و ہا ں نہیں جا ئے گے ا ور ان کی با تو ں سیر یس لینے کی کو ئی ضر و رت نہیں پر ا سے رہ رہ کر ان کی با تیں یا د آ رہی تھی اب بھی وہ چمبر میں بیٹھی ا ن کے با ر ے میں ہی سو چ ر ہی تھی ا ن کی با تیں ا ن میں مو جو د وہ نفر ت چا ہ کر بھی بھو لا ئی نہیں جا سکتی تھی آخر ا تنی نفر ت کی کیا و جہ ہو سکتی تھی۔
”تمہا ر ا با س ا شر ف کہا ں ہے“ وہ ا پنی سو چو ں میں گم تھی جب میز کو بجا تے ہو ئے اس سے پو چھا گیا تھا
ا س نے نظر یں ا ٹھا کر سا منے د یکھا تو وہا ں ا ر با ز کھڑا تھا۔
”وہ با ہر گئے ہیں کسی کا م سے“ وہ خو د پر قا بو پا تے ہو ئے بو لی تھی نہیں تو ا س آ د می کو د یکھ کر حو ر ین کا بھی اب تو خو ن کھو لنے لگتا تھا کیسے اتنے بے گنا ہو ں کا خو ن بہا نے کے بعد وہ آ ز ا دی سے گھو م رہا تھا ا یک قتل معا ف ہو تا تو وہ ا س شخص کا کر د یتی۔
”و یسے تمہیں ا یک با ت کہنی تھی ا پنے با س کو سمجھا ؤ جو وہ کر ر ہا ہے وہ نہ کر یں نہیں تو ا س کا ا نجا م ا چھا نہیں ہو گا کیو ں وہ ا پنی ا چھی خا صی ز ند گی کا د شمن بنا ہو ا ہے“ وہ با ہر جا نے لگا تھا پھر کچھ یا د آنے پر مڑ کر ا س طرف د یکھتے ہو ئے بو لا تھا جو کہ ا ب نہ سمجھی سے اس کی طر ف د یکھ ر ہی تھی۔
اشر ف انکل کے آ نے پر ا س کو پتہ چلا تھا وہ اس ہی و کٹم کی فیملی سے ملنے گئے تھے وہ کیس د و با ر ہ فائل کر نا چا ہتے تھے ا ب ا سے اس کی د ی ہو ئی د ھمکی کی و جہ سمجھ آ ر ہی تھی اس سے ا یک ا یک لفظ ا شر ف ا نکل کے گو ش گز ار د یا تھا وہ اب تھو ڑی پر یشا ن بھی د یکھا ئی د ے رہی تھی۔
”کو ئی با ت نہیں بیٹا آ پ کو پر یشا ن ہو نے کی ضر و ر ت نہیں ا س جیسے میں نے ا پنے کیر یئر میں بہت د یکھے ہیں“وہ ا سے حو صلہ د یتے ہو ئے بو لے تھے۔
”پر ا نکل آ پ کو ا چا نک کیو ں خیا ل آ یا“ وہ ان کے کہنے پر تھو ڑی ر یلیکس ہو ئے بو لی تھی۔
”کل ا س بچے کی ما ں آ ئی تھی میر ے پا س بہت رو رہی تھی تو پھر میں نے ان کی مد د کر نے کا فیصلہ کیا و یسے بھی اس کو بہت شو ق تھا مجھ سے د و با رہ ملنے کا تو میں نے سو چا کیو ں نہ ا س کی خو ا ہش پو ر ی کر د و ں“ وہ ہلکا سا مسکر ا ئے تھے۔
”تو وہ آ پ کے پا س پہلے کیو ں نہیں آ ئے“ حو ر ین کیس کی فا ئل کھو ل کر اس پر نظر یں دو ڑا تے ہو ئے بو لی تھی۔
”ان کے پا س فیس کے لیے پیسے نہیں تھے تو وہ کسی بھی بڑ ے و کیل کے پا س جا نے سے ڈر ر ہے تھے پر کل ہمت کر کے آ ہی گئے کہہ ر ہے تھے چا ہے ا نہیں ا پنا سب کچھ بیچنا کیو ں نہ پڑ ے وہ ا پنے بچے کو ا نصا ف د لا کر ر ہے گے“ وہ ایک ہی سا نس میں بو لتے گئے۔
”پر تمہیں پتہ ہے ا یسو ں کو سز ا مل جا ئے میر ے لیے وہ ہی میر ی فیس ہے“ وہ ان کی با ت کا مطلب سمجھ گئی تھی یہ کو ئی پہلی با ر نہیں تھا ا نہو ں کتنی ہی با ر ا یسے لو گو ں کی مد د کی تھی اور ا س کا اس پر و فیشن میں آ نے کی ا یک بڑ ی و جہ بھی وہ ہی تھے وہ ا ن کے گھر میں ا کثر آ تے تھے دا دو کے کو ئی دو ر کے ر شتے دا ر تھے وہ ا نہیں د یکھتے ہو ئے بڑ ی ہو ئی تھی انکا لو گو ں کی مدد کر نا سچ کا سا تھ د ینا سب کچھ۔
.......................
”حو ر ین تمہیں پتہ ہے تمہا ر ے بھا ئی سب کے لیے تحفے لا ئے ہیں اور تمہار ے لیے تو پورا ا یک بیگ بھر کر لا ئے ہیں“ وہ جب لو ٹی تو ا نا بیہ پر جو ش ہو تی اسے بتا ر ہی تھی جس پر اس کو کو ئی خا ص فر ق نہیں پڑ ا تھا۔
”د یکھو بڑ ے بھا ئی ہو نے کا یہ ہی فا ئد ہ ہو تا میر ے تو بھا ئی چھو ٹے ہیں وہ تو ا لٹا مجھ سے ہی ما نگتے ہیں“
وہ ا پنے ہی د ھیا ن میں لگی ہو ئی تھی بنا ا س کے چہر ے کی طر ف د یکھے۔
”کیاہو ا تمہا ر ی طبیعت تو ٹھیک ہے“ اس کو چپ د یکھ کر بو لی تھی جوہا تھ میں پکڑ ی فا ئلو ں کو بیڈ کے پاس پڑ ے ٹیبل کی د ر از میں ر کھ رہی تھی۔
”ہا ں ٹھیک ہے کیو ں تمہیں ا یسا کیو ں لگ ر ہا ہے“ وہ فا ئلیں ر کھ کر ا س کے پا س آ کر بیٹھ گئی تھی۔
”تم خو ش نہیں ہو ئی نہ ا س لیے و یسے بھی میں نے تمہیں کبھی بھی ا پنے با پ ا ور بھا ئی سے با ت کر تے ہو ئے نہیں د یکھا کیا کو ئی نا ر ا ضگی و غیر ہ ہے کیا“ وہ اس کے چہر ے کو غو ر سے د یکھتے ہو ئے بو لی تھی۔
انا بیہ کے و ا لد پہلے آ ر می میں تھے تو وہ اپنی فیملی کو ا پنے سا تھ ر کھتے تھے ا بھی کچھ سا ل پہلے وہ ر یٹا ئر ڈ ہو کر آ ئے تھے اور حو ر ین کے و ا لد کے سا تھ کا م کر ر ہے تھے ا نا بیہ سے چھو ٹے ا س کے دو بھا ئی اور بھی تھے جو کہ دو سرے شہر میں پڑ ھتے تھے وہ و ہیں ہو سٹل میں ر ہتے تھے مہینے ا یک دو با ر مشکل سے آ تے تھے اس و جہ سے وہ بہن بھا ئی اس گھر کے با ر ے میں کم ہی جا نتے تھے۔
”نہیں ا یسا تو کچھ نہیں ہے تمہیں پتہ ہی ہے کہ میر ے ا بو کو میر ا لا کر نا نہیں پسند جب سے میں نے ضد کر کے ڈگری شر و ع کی ہے تب سے وہ مجھ سے ز یا د ہ با ت کر نا پسند نہیں کر تے“وہ ا س کے خو د کو گھو رنے پر اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگا تے ہو ئے بو لی تھی۔
”اوہ تو یہ با ت ہے“ وہ تھو ڑا ر یلیکس ہو تے ہو ئے بو لی تھی ”کو ئی نئیں خیر ہے ہو جا ئے گے ٹھیک جب تم ا یک کا میا ب و کیل بنو گی ا ور ا خبا رو ں میں تمہا ر ی تصو یر یں چھپے گی تب ا نہیں تم پر فخر ہو گا د یکھنا“ وہ ا پنی طر ف سے ا سے حو صلہ د یتے ہو ئے بو لی تھی وہ کچھ نہیں بو لی تھی بس ہلکا سا ہنس دی جا نتی تھی وہ ا یک کیا د س با ر بھی ا خبا ر میں آ تی تو بھی ا ن کی نظر و ں میں وہ کچھ بھی نہیں ہو تی۔
اس نے انا بیہ کو یہ نہیں بتا یا تھاکہ اس د ن وہ جب وہ آ ئے تھے تو ا نہیں سلا م کر نے گئی تھی جس کا ا نہو ں نے جو ا ب د ینا بھی منا سب نہیں سمجھا تھاا لٹا منہ پھیر کر چلے گئے تھے۔
”حو ر ین یہ تمہا را بھا ئی لا یا ہے تمہا ر ے لیے“شا م کو ا می ا یک بیگ بھر کر اسکے کمر ے میں لا ئی تھی ”ر کھ
د ے ا می و ہا ں“ وہ ا لما ر ی کی طر ف ا شارہ کر تے ہو ئے بو لی تھی۔
”د یکھو گی نہیں کے کیا لا یا تمہا ر ے لیے تمہیں پتہ ہے ا نا بیہ تو ا پنے تحفے ا سی و قت کھو ل کر د یکھنے لگی تھی“ وہ اس کو ئی د لچسپی نہ د یکھ کر بو لی تھی جو کہ ا پنی ا سا ئنمنٹ بنا ننے میں مصر وف تھی۔
”ہا ں ا می د یکھ لو ں گی بعد میں“ وہ بنا سر ا ٹھا ئے بو لی تھی جب کہ اس اس طر ح د یکھ کر ا س کی ما ں ا یک ٹھنڈی سا نس بھر کر رہ گئی تھی کبھی کبھا ر ا ن کو یہ خو ا ہش شد ت سے ہو تی تھی کہ ا ن کی بیٹی بھی ا نا بیہ کی طرح کھو ل کر ز ند گی جیتی پر یہ ا ن کی خو ا ہش ہی تھی ما ں تھی ا س پر کیا بیتتی تھی وہ نہ بھی بتا تی تب بھی وہ جا نتی تھی کہ وہ ا پنے با پ کی و جہ کتنی ہر ٹ ہو تی تھی ان کے آ نے کے بعد ز یا دہ تر وہ گھر نہ ہو نے کی کو شش کر تی تھی اور ا گر گھر ہو تی تو ز یا د ہ تر ا پنے کمر ے میں ر ہتی تھی۔
”تمہا ر ی کل چھٹی ہے نہ یو نیو ر سٹی سے“ وہ اس کے پا س بیٹھتے ہو ئے بو لی”جی ا می چھٹی تو ہے پر مجھے ا شر ف ا نکل کی طر ف جا نا تھا ا یک کیس تھا ا س سلسلے میں“ وہ کا غذ پر لکھتے ہو ئے بو لی تھی۔
”کل مت جا نا کل تمہا ر ی د ا دی کے کو ئی جا ننے و ا لے آ ر ہے ہیں انہیں سب کو ہی گھر ر ہنے کا بو لا ہے“ اب کی با ر حو ر ین نظر یں ا ٹھا کر ا ن کی طر ف د یکھا تھا اور بو لی کچھ نہیں د ا دی نے کہا تھا تو ما ننا تو تھا ہی۔
.....................
آ ج صبح سے ہی گھر میں گہما گہمی سی تھی د ا دی خو د ملا ز مو ں کے سر و ں پر کھڑ ے ہو کر کا م کر وا ر ہی تھی حو رین کو سب کچھ عجیب لگ ر ہا تھا پہلے تو کبھی ا یسا نہیں ہو ا تھا آ خر کا ر تقر یبا دو بجے کے قر یب دا دی کے مہما ن آ ئے تب گھرمیں کچھ سکو ن ہو ا تھادا دی نے اسے اور انا بیہ کو چا ئے و غیر ہ لا نے کا بو لا تھا وہ انا بیہ کے سا تھ چا ئے کی ٹر ا لی لے کر اند ر آ ئی تو سا منے بیٹھے ا س شخص کو د یکھ کر ا س کے قد م ٹھٹھک گئے تھے وہ ہی تھا ا ر با ز جو کے سا منے صو فے پر بیٹھا تھا بڑ ے ا عتما د سے سا تھ میں ا یک عو ر ت تھی جو کہ شا ید ا س کی بیوی تھی
”ہا ں جی ا ر با ز صا حب یہ میر ی پو تی ہے حو ر ین“ دا دو اس کی طر ف ا شا رہ کر تے ہو ئے بو لی تھی ا ر باز
نام پر ا نا بیہ بھی سمجھ گئی تھی کہ وہ و ہی تھا جس کی اس د ن عا بد ا نکل با ت کر ر ہے تھے ”حو ر ین بیٹا ا و ھر آ نٹی کے پا س بیٹھو“ وہ اسے و ہیں کھڑا د یکھ کر ا پنی با ت پر ز ور د یتے ہو ئے بو لی تھی د یکھ تو اسے ا ر با ز بھی چکا تھا جو کہ ا یک لمحے کے لیے گھبر ا گیا تھا مگر سنبھل گیا د ا دی کے کہنے پر وہ اس عو ر ت کے پا س بیٹھ گئی تھی اتنی بچی تو وہ بھی نہ تھی کہ سمجھ نہ پا تی ا ن کی با تیں صا ف بتا ر ہی تھی کہ وہ ر شتے کے لیے آ ئی ہیں وہ خو د کو بمشکل ہی سنبھا ل پا رہی تھی اس نے ا یک نظر ا ٹھا کر ا پنی ما ں کی طر ف د یکھا تھا آ نکھو ں میں شکو ہ تھا وہ اس سے نظر یں چر ا گئی تھی پر کو ئی اور نظر یں بھی تھی جو کہ اس کے پل تبد یل ہو تے تا ثر ا ت کا جا ئز ہ لے ر ہا تھا اس و قت گھر میں مو جو د سب افر ا د بیٹھے تھے کچھ د یر بعد د ا دی کی ا جا ز ت لے کر وہ ا پنے کمر ے میں آ گئی تھی سا نس لینا مشکل ہو رہا تھا عا بد ا نکل کی سا ر ی با تیں سچ ہورہی تھی اسے لگا تھا وہ ا س کی دا دی کی نفر ت میں کہہ ر ہے تھے پر اب لگ رہا تھا وہ غلط تھی شا ید د ادی کو نہ پتہ ہو ا یک یہ سو چ تھی جو ا سکی اس و قت سب سے بڑ ی ا میدتھی تو شا م میں اس نے دا دی سے با ت کر نے کا سو چا تھا۔
.......................
